*شرمگاہ کو بوسہ دینا ؟* السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ مفتی شکیل صاحب! سوال یہ ہے کہ اپنے بیوی کے فرج کو بھوسہ دینا شرعی کیا حکم ہے مع تفصیل مذاھب اربعہ حوالہ سے فرمائیں جزاک اللہ سائل : مخفی ......... ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ الجواب وباللہ التوفیق شرمگاہ چاٹنے کا عمل بالکل غیر مہذب اور ناشائستہ ہے۔لیکن جواز سے انکار کی گنجائش نہیں ہے ۔ مذاہب اربعہ میں اباحت موجود ہے قیل لأصبغ إن قوما یذکرون کراھتہ فقال من کرھہ إنما کرھہ بالطب لا بالعلم ولا بأس بہ ولیس بمکروہ وقد روی عن مالک أنہ قال لا بأس أن ینظر إلی الفرج فی حال الجماع۔ وزاد فی روایۃ ویلحسہ بلسانہ وھو مبالغۃ فی الإباحۃ ولیس کذلک علی ظاھرہ۔" ”اصبغ سے کہا گیا کہ ایک جماعت (بیوی کی شرمگاہ کو دیکھنے کو) مکروہ کہتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جو بھی اسے مکروہ کہتا ہے وہ طبی اعتبار سے ہے وگرنہ شرعی کوئی دلیل کراہت کی نہیں اور شرعاً اس میں نہ کوئی حرج ہے اور نہ کراہت (بلکہ یہ صرف طبّا ناپسندیدگی ہوگی)۔ امام مالک سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ہمبستری کے وقت بیوی کی شرمگاہ کو دیکھنے...
اشاعتیں
آسان ترجمہء قرآن اور اس کی خصوصیات
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
Raahe Deen is pleased to announce launch of an android application Aasaan Tarjuma Quran by Mufti Mohammed Taqi Usmani , you can follow below link to access the application. http://play.google.com/store/apps/details?id=com.hl.aasaantarjumaquran شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مد ظلہ کی شہرۂ آفاق تالیف ’’توضیح القرآن‘‘ لوگوں کے بدلتے ہوئے مزاج ، نہایت عام فہم آسان زبان میں ایک مفید ترجمہ مع مختصر تشریحات ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کے افادے کو مزید عام و تام کرنے کے لیے اس کو موبائیل ایپ کی شکل میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیںتاکہ نسل نو بآسانی مستفید ہو سکے۔ اس ایپ کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں: ۱) ہر آیت کے سامنے اس کا ترجمہ موجود ہے۔ ۲) ترجمہ کے ساتھ اگر کوئی حاشیہ ہے تو وہاں اس پر نمبر لگا دیا گیا ہے، جس پر کلک کرنے سے حاشیہ نمودارہوتاہے اور بآسانی پڑھا جا سکتا ہے، پھر دوبارہ کلک کرنے پر حاشیہ بند ہوجاتاہے۔ ۳) دوران مطالعہ کسی خاص امر کو محفوظ کرنے کے لیے ’’یاد داشت‘‘ (بک مارک) کا آپشن دیا گیاہے، جس سے ’’محفوظ کردہ صفحات‘‘ ۴) (سیوڈ...
گاندھی جی کا آشرم
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
گاندھی جی کا آشرم ، بکری اور داسیاں ۔محترمہ حمیدہ اختر حسین اپنی کتاب ’’ہم سفر‘‘ (شوہر کی سوانح حیات ) شائع شدہ مکتبۂ دانیال کراچی میں لکھتی ہیں۔(واضح رہے کہ گاندھی جی کی اردو کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ اُنھوں نے خود گاندھی جی کی اپنی زبان میں بیان کیے ہیں جس سے عبارت کا لطف دوچند ہو جاتا ہے۔) (SKAFB) گاندھی جی کا آشرم صبح تڑکے اُنھوں نے مجھے اٹھایا کہ جھٹ پٹ منہ ہاتھ دھو کر باہر چلو، بعد میں ناشتا کرنے چلیں گے۔ باہر آکر تماشا دیکھا کہ ہر طرف اِدھر اُدھر لوگ جھاڑو لگا رہے ہیں، کچھ خواتین بھی ۔ پیچھے کی طرف لڑکے لڑکیاں تھیں جو بڑی پھرتی سے جھاڑو لگانے، گوبر اُٹھانے میں مصروف تھیں۔ بتایا یہ لڑکے لڑکیاں یہاں ( گاندھی ) کے آشرم ہی میں رہتے ہیں۔یہ کہہ کر نیچے اتریں، برآمدے کے نیچے رکھی جھاڑو اٹھا کر گز دو گز ادھر ادھر دو چار ہاتھ مارکر ہنستی ہوئی اوپر پھر برآمدے میں آگئیں۔ دور کی طرف اشارہ کیا۔وہ دیکھو، سیٹھ برلا جھاڑو لگا رہے ہیں۔ ’’توبہ توبہ ،یہ سب کیا ڈھونگ ہے؟‘‘میں نے کہا۔ ’’ تم یہ کیوں نہیں سمجھتیں کہ یہ برابری کا درس ہے۔ دیکھو میں تمہیں باپو کے پاس ایک شرط پر لے جائوں گی کہ ہر گز ایس...
اقبال کے کلام کی پہچان
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
اخبار و افکار لائبریری: انٹرنیٹ کی دُنیا میں اور بالخصوص فیس بُک پر اقبال کے نام سے بہت سے ایسے اشعار گردِش کرتے ہیں جن کا اقبال کے اندازِ فکر اور اندازِ سُخن سے دُور دُور کا تعلق نہیں۔ کلامِ اقبال اور پیامِ اقبال سے محبت کا تقاضا ہے، اور اقبال کا حق ہے کہ ہم ایسے اشعار کو ہرگز اقبال سے منسوب نہ کریں جو اقبال نے نہیں کہے۔ ذیل میں ایسے اشعار کی مختلف اقسام اور مثالیں پیشِ کی جاتی ہیں 1۔ پہلی قسم ایسے اشعار کی ہے جو ہیں تو معیاری اور کسی اچھے شاعر کے، مگر اُنہیں غلطی سے اقبال سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ ایسے اشعار میں عموماََ عقاب، قوم، اور خودی جیسے الفاظ کے استعمال سے قاری کو یہی لگتا ہے کہ شعر اقبال کا ہی ہے۔ مثالیں تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے - سید صادق حسین اسلام کے دامن میں اور اِس کے سِوا کیا ہے اک ضرب یَدّ اللہی، اک سجدہِ شبیری - وقار انبالوی خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا - ظفر علی خان 2۔ پھر ایسے اشعار ہیں جو ہیں تو وزن میں مگر الفاظ کے چناؤ کے لحاظ سے کوئی خاص معیار نہ...
مذھب اور معاشرہ
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
مذھب اور سوسائٹی اگر ایک جگہ کچھ لڑکیاں بیٹھی ہوں اور کسی کا بھائی وہاں سے گزرے تو کوئی ایک لڑکی اچانک بول اٹھتی ہے’’شازیہ ! تمہارا بھائی کتنا ہینڈ سم ہے‘ یہ تو ایک دم ہیرو ہے‘‘۔ لیکن اگر ایک جگہ کچھ لڑکے بیٹھے ہوں اور کسی کی بہن وہاں سے گذرے تو کیا کوئی لڑکا ایسا جملہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے؟؟؟ نہیں کر سکتا ناں! اس لیے کہ سوسائٹی نے طے کردیا ہے کہ ایسے جملے صرف لڑکیاں کہہ سکیں گی‘ لڑکے نہیں۔میں بھی یہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی مذہب سے کہیں زیادہ طاقتور سوسائٹی ہوچکی ہے۔دوسری شادی کرنا کوئی جرم نہیں‘ لیکن بیوی جتنی مرضی مذہبی ہو وہ ہر گز ہرگز اِس چیز کو تسلیم نہیں کرتی اور سوتن کے نام پر خونخوار ہوجاتی ہے۔اسی طرح مذہب میں شادی کے لیے بالغ مرد و عورت کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں‘ 90 سال کا بابا20 سال کی لڑکی سے شادی کرسکتاہے اور 80 سال کی مائی کسی 25 سالہ جوان لڑکے سے شادی کر سکتی ہے‘ لیکن دیکھ لیجئے‘ ایسا جب بھی ہوتاہے سوسائٹی میں طنز کے تیر چلنا شروع ہوجاتے ہیں حالانکہ مذہب میں ’’بے جوڑشادی‘‘ کا کوئی تصور نہیں‘اگر عورت اور مرد بالغ ہیں تو پھر دونوں کی عمروں میں 100 ...
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته دوستو! اس بلاگ کا مقصد اصلی تو یہ ہے کہ میرے پاس مختف جگہوں سے جو قیمتی تحریریں آتی ہے وہ محفوظ ہوجائیں، ان سے میں خود بھی فائدہ اٹھاؤں اور آپ لوگ بھی مستفید ہوں، امید کرتا ہوں کہ آپ حضرات میرے اس بلاگ سے خصوصی استفادہ کریں گے، اور مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے، اور ہاں! آخری بات! اپنی قیمتی آراء سے ضرور نوازتے رہیں گے. ان شاء اللہ. میرا امیل ایڈریس: Mfaisalshaikh43@gmail.com