*شرمگاہ کو بوسہ دینا ؟*
السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ مفتی شکیل صاحب!
سوال یہ ہے کہ اپنے بیوی کے فرج کو بھوسہ دینا شرعی کیا حکم ہے مع تفصیل مذاھب اربعہ حوالہ سے فرمائیں
جزاک اللہ
سائل : مخفی .........
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
شرمگاہ چاٹنے کا عمل بالکل غیر مہذب اور ناشائستہ ہے۔لیکن جواز سے انکار کی گنجائش نہیں ہے ۔
مذاہب اربعہ میں اباحت موجود ہے
قیل لأصبغ إن قوما یذکرون کراھتہ فقال من کرھہ إنما کرھہ بالطب لا بالعلم ولا بأس بہ ولیس بمکروہ وقد روی عن مالک أنہ قال لا بأس أن ینظر إلی الفرج فی حال الجماع۔ وزاد فی روایۃ ویلحسہ بلسانہ وھو مبالغۃ فی الإباحۃ ولیس کذلک علی ظاھرہ۔"
”اصبغ سے کہا گیا کہ ایک جماعت (بیوی کی شرمگاہ کو دیکھنے کو) مکروہ کہتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جو بھی اسے مکروہ کہتا ہے وہ طبی اعتبار سے ہے وگرنہ شرعی کوئی دلیل کراہت کی نہیں اور شرعاً اس میں نہ کوئی حرج ہے اور نہ کراہت (بلکہ یہ صرف طبّا ناپسندیدگی ہوگی)۔ امام مالک سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ہمبستری کے وقت بیوی کی شرمگاہ کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں اور ایک روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ زبان سے شرمگاہ کو چاٹے۔ امام مالک کا یہ قول اباحت میں مبالغہ ہے جو کہ اپنے ظاہر پر نہیں۔“ (مواہب الجلیل علی مختصر خلیل ۵/۲۳)
طرح فقہ شافعی کی کتاب اعانۃ الطالبین میں ذکر ہے:
"(تتمۃ: یجوز للزوج کل تمتع منھا بما سوی حلقۃ دبرھا، ولو بمص بظرھا أو استمناء بیدھا"
تتمہ: شوہر کیلئے بیوی سے ہر قسم کا تمتع جائز ہے سوائے اس کی دبر (موضع اجابت) سے۔اگرچہ یہ تمتع عورت کی شرمگاہ کے چوسنے یا اس کے ہاتھ سے مشت زنی کرانےکی صورت میں ہو۔“ (اعانۃ الطالبین ۳/۵۲۹)
فقہ حنبلی کی کتاب ”کشاف القناع عن متن الاقناع“ میں تحریر ہے:
"وقال القاضی یجوز تقبیل فرج المرأۃ قبل الجماع ویکرہ بعدہ"
’’قاضیؒ فرماتے ہیں کہ عورت کی شرمگاہ کا بوسہ لینا جماع سے قبل جائز ہے اور جماع کے بعد مکروہ ہے۔ ‘‘
(کشاف القناع ۵/۱۶)
فقہ حنفی کی مایہ ناز کتاب رد المحتار میں نقل ہے:
"وعن أبي يوسف سألت أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا قال لا وأرجو أن يعظم الأجر ذخيرة "
’’امام ابو یوسف نے امام ابو حنیفہ سے دریافت فرمایا کہ ایک شخص اپنی بیوی کی شرمگاہ کو چھوتا ہے اور بیوی اس کی شرمگاہ کو تاکہ مرد میں حرکت بڑھ جائے تو کیا آپ اس میں کوئی حرج سمجھتے ہیں؟ امام صاحب نے جواب دیا: نہیں بلکہ مجھے امید ہے کہ انہیں زیادہ ثواب ملے گا۔“
( رد المحتار ۶/۳۶۷)
نیز فقہ حنفی کی ایک اور فتاویٰ کی مشہور کتاب ہندیہ میں ہے:
" إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة"
”نوازل میں ہے جب مرد اپنا آلہ تناسل عورت کے منہ میں داخل کردے تو کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا مکروہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا مکروہ نہیں۔ ذخیرہ میں یہی ذکر ہے۔“
(الھندیۃ ۵/۳۷۲)
اسی طرح محیط برہانی میں یہ جزئیہ ان الفاظ میں ذکر ہے:
"إذا ادخل الرجل ذکرہ فی فم امرأتہ یکرہ لأنہ موضع قراءۃ القرآن فلا یلیق بہ إدخال الذکر بہ وقد قیل بخلافہ ایضاً"
’’اگر مرد عورت کے منہ میں اپنا آلہ تناسل داخل کرے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ منہ قرآن پاک پڑھنے کی جگہ ہے تو اس میں آلہ کا داخل کرنا مناسب نہیں اور ایک قول اس میں اس کے برخلاف (عدمِ کراہت) کا بھی ہے۔“
(محیط برھانی ۸/۱۳۴)
نیز موسوعہ فقہیہ جس میں مذاہب اربعہ کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں اور دورِ حاضر کے علماء کی ایک جماعت نے اسے تیار کیا ہے، اس میں مسئلہ زیر بحث سے متعلق یہ تفصیل تحریر ہے:
"لمس فرج الزوجة : اتفق الفقهاء على أنه يجوز للزوج مس فرج زوجته . قال ابن عابدين : سأل أبو يوسف أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا ؟ قال : لا ، وأرجو أن يعظم الأجروقال الحطاب : قد روي عن مالك أنه قال : لا بأس أن ينظر إلى الفرج في حال الجماع ، وزاد في رواية : ويلحسه بلسانه ، وهو مبالغة في الإباحة ، وليس كذلك على ظاهره و قال الفناني من الشافعية : يجوز للزوج كل تمتع منها بما سوى حلقة دبرها ، ولو بمص بظرها وصرح الحنابلة بجواز تقبيل الفرج قبل الجماع ، وكراهته بعده" (الموسوعۃ الفقھیۃ: ۳۲/۹، فرج)
ان عبارات سے معلوم ہو اکہ امام مالک کے نزدیک شرمگاہ کو چوسنے، امام شافعی کے نزدیک” مصّ بظر“کے الفاظ، امام احمد کے نزدیک شرمگاہ کا قبل از جماع بوسہ لینے کا جواز اور امام صاحب سے امام ابو یوسف کی روایت کے مطابق شرمگاہ کو چھونے پر ثواب کی امید یہ سب کچھ یہ بتاتا ہے کہ یہ عمل حرامِ قطعی یا ممنوع فعل نہیں بلکہ اس میں اباحت اور بوقت ضرورت جوازہے۔ نیز ہندیہ میں کراہت اور عدمِ کراہت دنوں قول نقل ہیں لیکن محیط برہانی میں ”فلا یلیق بہ“ یعنی نامناسب ہے کے الفاظ یہ بتا رہے ہیں کہ اگر کراہت والا قول بھی لے لیا جائے تو کراہت تنزیہی ہی مراد ہوگی وگرنہ دوسرے قول میں تو اور تخفیف ہے۔
نیزمرد یا عورت کی شرمگاہ کوئی نجس چیز نہیں، نہ ان کے چھونے یاہاتھ لگانے سے وضو کرنا ضروری ہوتا ہے۔ آپ سے اس سلسلے میں دریافت کیا گیا:
"عن قیس بن طلق ؓ عن ابیہ سئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم افی مس الذکر وضوء قال: لا"
’’ حضرت قیس بن طلق سے روایت ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آ پ سے پوچھا گیا: کیا آلہ تناسل کو چھونےسے وضو کرنا ہوگا؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: نہیں۔“
(طحاوی، ۱/۶۰)
ایک اور اثر ہے :
"عن قیس بن حازم رحمہ اللہ قال سئل سعد ؓ عن مس الذکر فقال ان کان نجسا فاقطعہ لا بأس بہ۔"
’’حضرت قیس بن حازم سے مروی ہے حضرت سعد سے آلہ تناسل کو چھونے (سے وضو) سے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا اگر یہ نجس ہے تو اسے کاٹ (کر پھینک) دو، اس(کو چھونے) میں کوئی حرج نہیں۔“ (طحاوی
جب یہ نجس بھی نہیں اور فقہاء نے اس کی گنجائش بھی لکھی ہے کہ زوجین ایک دوسرے کی شرمگاہ سے استمتاع کریں تو پھر اسے مطلقاً حرام کہنا مناسب نہیں البتہ یہ جواز فقط اباحت کے درجے میں ہے، یہ کوئی مرغوب فیہ چیز نہیں اور نہ اسلام میں ایسی کوئی ترغیب موجود ہے۔
اگر ایک شخص کو شہوت یا تسکین اسی طرح آتی ہو تو اس کے لئے یہ فعل کرنے کی گنجائش ہے لیکن اسے عادت بنالینا یا بلا ضرورت ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ فی نفسہ یہ ایک غیر مناسب اور بد تہذیب قسم کا فعل ہے جس میں جانوروں کے فعل کے ساتھ مشابہت ہے لہٰذا اس سے از حد اجتناب کیا جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اردو فتاویٰ میں ہمارے بعض اکابرین نے اس فعل کو مبالغۃً اور شدت کی بنا پر مطلقاً حرام قرار دیا ہے تاکہ اس فعل کی قباحت اور شناعت دل میں بیٹھ جائے اور لوگ اسے عادت نہ بنالیں نیز مسلم معاشرہ بھی انگریزوں کی طرح انسانیت کے درجے سے تنزل کرکے حیوانیت میں نہ اتر آئے بہرحال ضرورت کے وقت اگر طرفین کی رضامندی ہو تو یہ فعل کیا جاسکتا ہے۔
(نجم الفتاوی 339/5 )
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ مفتی شکیل صاحب!
سوال یہ ہے کہ اپنے بیوی کے فرج کو بھوسہ دینا شرعی کیا حکم ہے مع تفصیل مذاھب اربعہ حوالہ سے فرمائیں
جزاک اللہ
سائل : مخفی .........
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق
شرمگاہ چاٹنے کا عمل بالکل غیر مہذب اور ناشائستہ ہے۔لیکن جواز سے انکار کی گنجائش نہیں ہے ۔
مذاہب اربعہ میں اباحت موجود ہے
قیل لأصبغ إن قوما یذکرون کراھتہ فقال من کرھہ إنما کرھہ بالطب لا بالعلم ولا بأس بہ ولیس بمکروہ وقد روی عن مالک أنہ قال لا بأس أن ینظر إلی الفرج فی حال الجماع۔ وزاد فی روایۃ ویلحسہ بلسانہ وھو مبالغۃ فی الإباحۃ ولیس کذلک علی ظاھرہ۔"
”اصبغ سے کہا گیا کہ ایک جماعت (بیوی کی شرمگاہ کو دیکھنے کو) مکروہ کہتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جو بھی اسے مکروہ کہتا ہے وہ طبی اعتبار سے ہے وگرنہ شرعی کوئی دلیل کراہت کی نہیں اور شرعاً اس میں نہ کوئی حرج ہے اور نہ کراہت (بلکہ یہ صرف طبّا ناپسندیدگی ہوگی)۔ امام مالک سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ہمبستری کے وقت بیوی کی شرمگاہ کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں اور ایک روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ زبان سے شرمگاہ کو چاٹے۔ امام مالک کا یہ قول اباحت میں مبالغہ ہے جو کہ اپنے ظاہر پر نہیں۔“ (مواہب الجلیل علی مختصر خلیل ۵/۲۳)
طرح فقہ شافعی کی کتاب اعانۃ الطالبین میں ذکر ہے:
"(تتمۃ: یجوز للزوج کل تمتع منھا بما سوی حلقۃ دبرھا، ولو بمص بظرھا أو استمناء بیدھا"
تتمہ: شوہر کیلئے بیوی سے ہر قسم کا تمتع جائز ہے سوائے اس کی دبر (موضع اجابت) سے۔اگرچہ یہ تمتع عورت کی شرمگاہ کے چوسنے یا اس کے ہاتھ سے مشت زنی کرانےکی صورت میں ہو۔“ (اعانۃ الطالبین ۳/۵۲۹)
فقہ حنبلی کی کتاب ”کشاف القناع عن متن الاقناع“ میں تحریر ہے:
"وقال القاضی یجوز تقبیل فرج المرأۃ قبل الجماع ویکرہ بعدہ"
’’قاضیؒ فرماتے ہیں کہ عورت کی شرمگاہ کا بوسہ لینا جماع سے قبل جائز ہے اور جماع کے بعد مکروہ ہے۔ ‘‘
(کشاف القناع ۵/۱۶)
فقہ حنفی کی مایہ ناز کتاب رد المحتار میں نقل ہے:
"وعن أبي يوسف سألت أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا قال لا وأرجو أن يعظم الأجر ذخيرة "
’’امام ابو یوسف نے امام ابو حنیفہ سے دریافت فرمایا کہ ایک شخص اپنی بیوی کی شرمگاہ کو چھوتا ہے اور بیوی اس کی شرمگاہ کو تاکہ مرد میں حرکت بڑھ جائے تو کیا آپ اس میں کوئی حرج سمجھتے ہیں؟ امام صاحب نے جواب دیا: نہیں بلکہ مجھے امید ہے کہ انہیں زیادہ ثواب ملے گا۔“
( رد المحتار ۶/۳۶۷)
نیز فقہ حنفی کی ایک اور فتاویٰ کی مشہور کتاب ہندیہ میں ہے:
" إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة"
”نوازل میں ہے جب مرد اپنا آلہ تناسل عورت کے منہ میں داخل کردے تو کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا مکروہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا مکروہ نہیں۔ ذخیرہ میں یہی ذکر ہے۔“
(الھندیۃ ۵/۳۷۲)
اسی طرح محیط برہانی میں یہ جزئیہ ان الفاظ میں ذکر ہے:
"إذا ادخل الرجل ذکرہ فی فم امرأتہ یکرہ لأنہ موضع قراءۃ القرآن فلا یلیق بہ إدخال الذکر بہ وقد قیل بخلافہ ایضاً"
’’اگر مرد عورت کے منہ میں اپنا آلہ تناسل داخل کرے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ منہ قرآن پاک پڑھنے کی جگہ ہے تو اس میں آلہ کا داخل کرنا مناسب نہیں اور ایک قول اس میں اس کے برخلاف (عدمِ کراہت) کا بھی ہے۔“
(محیط برھانی ۸/۱۳۴)
نیز موسوعہ فقہیہ جس میں مذاہب اربعہ کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں اور دورِ حاضر کے علماء کی ایک جماعت نے اسے تیار کیا ہے، اس میں مسئلہ زیر بحث سے متعلق یہ تفصیل تحریر ہے:
"لمس فرج الزوجة : اتفق الفقهاء على أنه يجوز للزوج مس فرج زوجته . قال ابن عابدين : سأل أبو يوسف أبا حنيفة عن الرجل يمس فرج امرأته وهي تمس فرجه ليتحرك عليها هل ترى بذلك بأسا ؟ قال : لا ، وأرجو أن يعظم الأجروقال الحطاب : قد روي عن مالك أنه قال : لا بأس أن ينظر إلى الفرج في حال الجماع ، وزاد في رواية : ويلحسه بلسانه ، وهو مبالغة في الإباحة ، وليس كذلك على ظاهره و قال الفناني من الشافعية : يجوز للزوج كل تمتع منها بما سوى حلقة دبرها ، ولو بمص بظرها وصرح الحنابلة بجواز تقبيل الفرج قبل الجماع ، وكراهته بعده" (الموسوعۃ الفقھیۃ: ۳۲/۹، فرج)
ان عبارات سے معلوم ہو اکہ امام مالک کے نزدیک شرمگاہ کو چوسنے، امام شافعی کے نزدیک” مصّ بظر“کے الفاظ، امام احمد کے نزدیک شرمگاہ کا قبل از جماع بوسہ لینے کا جواز اور امام صاحب سے امام ابو یوسف کی روایت کے مطابق شرمگاہ کو چھونے پر ثواب کی امید یہ سب کچھ یہ بتاتا ہے کہ یہ عمل حرامِ قطعی یا ممنوع فعل نہیں بلکہ اس میں اباحت اور بوقت ضرورت جوازہے۔ نیز ہندیہ میں کراہت اور عدمِ کراہت دنوں قول نقل ہیں لیکن محیط برہانی میں ”فلا یلیق بہ“ یعنی نامناسب ہے کے الفاظ یہ بتا رہے ہیں کہ اگر کراہت والا قول بھی لے لیا جائے تو کراہت تنزیہی ہی مراد ہوگی وگرنہ دوسرے قول میں تو اور تخفیف ہے۔
نیزمرد یا عورت کی شرمگاہ کوئی نجس چیز نہیں، نہ ان کے چھونے یاہاتھ لگانے سے وضو کرنا ضروری ہوتا ہے۔ آپ سے اس سلسلے میں دریافت کیا گیا:
"عن قیس بن طلق ؓ عن ابیہ سئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم افی مس الذکر وضوء قال: لا"
’’ حضرت قیس بن طلق سے روایت ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آ پ سے پوچھا گیا: کیا آلہ تناسل کو چھونےسے وضو کرنا ہوگا؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: نہیں۔“
(طحاوی، ۱/۶۰)
ایک اور اثر ہے :
"عن قیس بن حازم رحمہ اللہ قال سئل سعد ؓ عن مس الذکر فقال ان کان نجسا فاقطعہ لا بأس بہ۔"
’’حضرت قیس بن حازم سے مروی ہے حضرت سعد سے آلہ تناسل کو چھونے (سے وضو) سے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا اگر یہ نجس ہے تو اسے کاٹ (کر پھینک) دو، اس(کو چھونے) میں کوئی حرج نہیں۔“ (طحاوی
جب یہ نجس بھی نہیں اور فقہاء نے اس کی گنجائش بھی لکھی ہے کہ زوجین ایک دوسرے کی شرمگاہ سے استمتاع کریں تو پھر اسے مطلقاً حرام کہنا مناسب نہیں البتہ یہ جواز فقط اباحت کے درجے میں ہے، یہ کوئی مرغوب فیہ چیز نہیں اور نہ اسلام میں ایسی کوئی ترغیب موجود ہے۔
اگر ایک شخص کو شہوت یا تسکین اسی طرح آتی ہو تو اس کے لئے یہ فعل کرنے کی گنجائش ہے لیکن اسے عادت بنالینا یا بلا ضرورت ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ فی نفسہ یہ ایک غیر مناسب اور بد تہذیب قسم کا فعل ہے جس میں جانوروں کے فعل کے ساتھ مشابہت ہے لہٰذا اس سے از حد اجتناب کیا جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اردو فتاویٰ میں ہمارے بعض اکابرین نے اس فعل کو مبالغۃً اور شدت کی بنا پر مطلقاً حرام قرار دیا ہے تاکہ اس فعل کی قباحت اور شناعت دل میں بیٹھ جائے اور لوگ اسے عادت نہ بنالیں نیز مسلم معاشرہ بھی انگریزوں کی طرح انسانیت کے درجے سے تنزل کرکے حیوانیت میں نہ اتر آئے بہرحال ضرورت کے وقت اگر طرفین کی رضامندی ہو تو یہ فعل کیا جاسکتا ہے۔
(نجم الفتاوی 339/5 )
واللہ اعلم بالصواب
شکیل منصور القاسمی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں